اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، بحرین نے امریکا کے ساتھ اپنے قریبی تعاون کو مزید وسعت دیتے ہوئے اقتصادی اور مالی امور میں واشنگٹن کے ساتھ رابطہ مضبوط کرنے پر زور دیا ہے، جس کے بعد یہ سوالات اٹھ رہے ہیں کہ منامہ ایران کے خلاف امریکی معاشی دباؤ کی پالیسی پر کس حد تک عمل درآمد میں شریک ہے۔
بحرین کے وزیر خزانہ و قومی معیشت سلمان بن خلیفہ آل خلیفہ نے 25 اگست کو امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ سے ٹیلی فون پر گفتگو کی۔ دونوں رہنماؤں نے ایران کے خلاف واشنگٹن کی جانب سے جاری معاشی دباؤ اور امریکی اصطلاح میں ’’اقتصادی خاتمے کی کارروائی‘‘ سے متعلق امور پر تبادلہ خیال کیا۔
سرکاری بیان کے مطابق دونوں جانب سے ’’غیر قانونی مالی معاونت‘‘ کی روک تھام اور ان سرگرمیوں کے مالی ذرائع ختم کرنے کے لیے تعاون پر بات چیت ہوئی جنہیں امریکا خطے میں ’’عدم استحکام پیدا کرنے والی‘‘ سرگرمیاں قرار دیتا ہے۔ امریکی وزیر خزانہ نے اس سلسلے میں بحرین کے کردار کو سراہا۔
یہ رابطہ ایسے وقت میں ہوا ہے جب امریکا نے ایران کے خلاف معاشی دباؤ مزید بڑھاتے ہوئے سمندری نقل و حمل، ہوا بازی، سونے، ٹیکنالوجی اور ڈیجیٹل اثاثوں سمیت مختلف شعبوں پر پابندیاں عائد کی ہیں۔
گفتگو کے دوران بحرین نے سمندری راستوں اور بحری جہاز رانی کے تحفظ کی اہمیت پر بھی زور دیا اور آبنائے ہرمز کو معاشی دباؤ کے لیے استعمال کیے جانے کو ناقابلِ قبول قرار دیا۔ یہ مؤقف خطے کی صورتحال کے حوالے سے منامہ اور واشنگٹن کے درمیان پائی جانے والی ہم آہنگی کی عکاسی کرتا ہے۔
امریکا اور بحرین کے درمیان دفاعی اور سکیورٹی تعاون بھی کئی دہائیوں پر محیط ہے۔ بحرین میں امریکی بحریہ کا پانچواں بیڑا موجود ہے اور دونوں ممالک کے درمیان دفاعی، سکیورٹی اور اقتصادی شعبوں میں قریبی روابط قائم ہیں۔
تجزیے کے مطابق امریکا اور بحرین کے درمیان مالی و اقتصادی تعاون میں اضافے سے خطے میں منامہ کا کردار محض سکیورٹی اور دفاعی معاملات تک محدود نہیں رہے گا بلکہ بحرین ایران کے خلاف امریکی معاشی دباؤ کی پالیسی میں بھی واشنگٹن کا ایک اہم علاقائی شراکت دار بن سکتا ہے۔
دوسری جانب ایران کے خلاف پابندیوں اور معاشی دباؤ میں علاقائی ممالک کی شمولیت خلیج فارس کے اقتصادی اور سکیورٹی تعلقات پر بھی اثر انداز ہوسکتی ہے، جس کے باعث خطے کے ممالک کے لیے اپنے قومی مفادات کو مدنظر رکھتے ہوئے آزادانہ پالیسی اختیار کرنے کی اہمیت مزید بڑھ گئی ہے۔
آپ کا تبصرہ